غزل 12 اشعار

تم نہ آؤ تو نامہ بر ہی سہی

Tum na aao to naama bar hi sahi

تم نہ آؤ تو نامہ بر ہی سہیمبتدا ہو نہ ہو خبر ہی سہی

اس کے سائے میں دم تو لیتا ہوںشاخ امید بے ثمر ہی سہی

دل کی نکلی تو ہے بھڑاس ذراآہ بیگانۂ اثر ہی سہی

اور تو آپ سے نہ کچھ ہوگامہربانی کی اک نظر ہی سہی

چھوڑ واعظ ریا کو جام اٹھاخیر ممکن نہیں تو شر ہی سہی

ایک مدت سے سن رہا ہے جہاںداستاں میری مختصر ہی سہی

کیوں ہے نا معتبر کرم ان کازندگی درد معتبر ہی سہی

نور افزا ہے یاد چہرۂ دوسترات فرقت کی بے سحر ہی سہی

ہے یہی میرا کعبۂ مقصودسجدہ کرنے کو تیرا در ہی سہی

روز منت کش دوا تو نہ ہوزندگی ایک درد سر ہی سہی

کچھ تمہیں بھی تو رحم لازم ہےمیری فریاد بے اثر ہی سہی

عرشؔ بیگانۂ ہنر تو نہ رہعیب کرنے کا اک ہنر ہی سہی

— عرش ملسیانی