غزل 7 اشعار

وہ لے کے حوصلۂ عزم بے پناہ چلے

Woh le ke honsla-e-azm-e-be-panah chale

وہ لے کے حوصلۂ عزم بے پناہ چلےجو لوگ ہنستے ہوئے سوئے قتل گاہ چلے

غریب نکلے رجز خواں تو اہل دل نے کہاکرو سلام کہ ہمت کے بادشاہ چلے

فریب کھائے ہوئے ظلم و جور انساں کےخدا کی خاص عدالت کے دادخواہ چلے

نہ بیم مرگ نہ خوف اجل نہ رنج کوئیخوشی سے کرتے ہوئے رقص کج کلاہ چلے

صلیب و دار کی سب رحمتوں کے پیش نظروہ تبرک کرتے ہوئے حرص عز و جاہ چلے

زمانہ چیخ اٹھا سب کی آنکھ بھر آئیبرائے قتل جو مقتل کو بے گناہ چلے

زمین والو اٹھو اٹھ کے ان کو سجدہ کرووہ لے کے پرچم نو عرشؔ پائے گاہ چلے

— عرش ملسیانی