7 اشعار

ہم نے قصہ بہت کہا دل کا

Hum ne qissa bahut kaha dil ka

ہم نے قصہ بہت کہا دل کانہ سنا تم نے ماجرا دل کا

اپنے مطلب کی سب ہی کہتے ہیںہے نہیں کوئی آشنا دل کا

عشق میں ایسی کھینچی رسوائیہو گیا شور جا بجا دل کا

اس قدر بے حواس رہتا ہےجیسے کچھ کوئی لے گیا دل کا

ایک بوسے پہ بیچتے تھے ہمتو نے سودا نہ کچھ کیا دل کا

تیرے ملنے سے فائدہ کیا ہےنہ ہو حاصل جو مدعا دل کا

کیوں دیا آصفؔ اس ستم گر کوآپ تو مدعی ہوا دل کا

— آصف الدولہ