5 اشعار

جس گھڑی تیرے آستاں سے گئے

Jis ghari tere aastan se gaye

جس گھڑی تیرے آستاں سے گئےہم نے جانا کہ دو جہاں سے گئے

تیرے کوچے میں نقش پا کی طرحایسے بیٹھے کہ پھر نہ واں سے گئے

شمع کی طرح رفتہ رفتہ ہمایسے گزرے کہ جسم و جاں سے گئے

ایک دن میں نے یار سے یہ کہااب تو ہم طاقت و تواں سے گئے

ہنس کے بولا کہ سن لے اے آصفؔیہی کہہ کہہ کے لاکھوں جاں سے گئے

— آصف الدولہ