7 اشعار

وحشت میں سوئے دشت جو یہ آہ لے گئی

Wahshat mein sooye dasht jo yeh aah le gayi

وحشت میں سوئے دشت جو یہ آہ لے گئیکیا کیا کنوئیں جھکانے تری چاہ لے گئی

آئے کبھی نہ راہ پہ کیا جانیے ہمیںکیدھر کو یہ طبیعت گمراہ لے گئی

کعبے میں بھی گئے تو ہمیں تیری یاد آہپھر سوئے دیر اے بت دل خواہ لے گئی

اس نے کہاں بلایا تھا یہ اس کے گھر ہمیںناحق زبان خلق کی افواہ لے گئی

جاروب کش نے اس کے نہ رہنے دیا مجھےگرداں نسیم شکل پر کاہ لے گئی

جوں تیر دل سے آہ جو نکلے تو کیا کہوںبس جان کو بھی اپنے وہ ہم راہ لے گئی

آصفؔ چمن میں آتے ہی اس رشک گل کی یادکیا جانیے کدھر مجھے ناگاہ لے گئی

— آصف الدولہ