4 اشعار

یا ڈر مجھے تیرا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا

Ya dar mujhe tera hai keh main kuchh nahin kehta

یا ڈر مجھے تیرا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتایا حوصلہ میرا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا

ہم راہ رقیبوں کے تجھے باغ میں سن کردل دینے کا ثمرا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا

کہتا ہے بہت کچھ وہ مجھے چپکے ہی چپکےظاہر میں یہ کہتا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا

کہتا ہے تو کچھ یا نہیں آصفؔ سے یہ تو جانیاں کس کو سناتا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا

— آصف الدولہ