10 اشعار

ملنے کو تجھ سے دل تو مرا بے قرار ہے

Milne ko tujh se dil to mira be qarar hai

ملنے کو تجھ سے دل تو مرا بے قرار ہےتو آ کے مل نہ مل یہ ترا اختیار ہے

جس جس کے پاس دوستو جس جس کا یار ہےبہتر چمن سے گھر میں اسی کے بہار ہے

تم زخم دل کی میرے خبر پوچھتے ہو کیاتیر نگاہ دل کے تو اب وار پار ہے

گر دشمنی پہ دوست نے باندھی مرے کمردشمن ہے اب جو کوئی مرا دوست دار ہے

لگتی نہیں پلک سے مری اب ذرا پلکآنے کا اس کے جب سے مجھے انتظار ہے

اے شہسوار اس کو بھی کر لے تو اب شکاریہ صید دل بھی عمر سے امیدوار ہے

یہ کچھ تو حال تیرے دوانے کا اب ہواجیدھر کو جاوے آہ اسے مار مار ہے

اے گل تجھے عزیز ہوں رکھتا میں اس لیےیعنی کہ تجھ میں ایک رمق بوئے یار ہے

یہ کس کے دل کو چھین کے کرتے ہیں پائمالان ظالموں کا آہ یہی کاروبار ہے

آصفؔ خدا کے واسطے مت دے بتوں کو دلیہ وہ ہیں جن کے قول کا کیا اعتبار ہے

— آصف الدولہ