7 اشعار

دل کے صحرا پر دیتے ہیں جب اشکوں کے ساگر دستک

Dil ke sehra par dete hain jab ashkon ke saagar dastak

دل کے صحرا پر دیتے ہیں جب اشکوں کے ساگر دستک

«دل کے صحرا پر دیتے ہیں جب اشکوں کے ساگر دستک» آزاد گلاٹی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 4 سیکنڈ ہے۔

دل کے صحرا پر دیتے ہیں جب اشکوں کے ساگر دستکروح کے سناٹے میں سنتا ہوں میں اندر باہر دستک

اب تک ہر شب سوتے سوتے چونک اٹھتا ہوں تنہائی میںمدت بیتی میں نے سنی تھی اک شب اپنے در پر دستک

شام کا ڈھلتا سورج دور افق پر ٹھہرا سوچ رہا ہےکب شب بیتے اور وہ دے پھر صبح کے دروازے پر دستک

بھیگی شب کے سناٹے میں ایسے اس کا دھیان آتا ہےجیسے کسی تالاب کے پانی پر دیتا ہے کنکر دستک

اب تک ذہن پہ منڈلاتی ہے دکھ سی پیلی شام سلونیدل میں آس نراس کی الجھن میں تنہا اس کا در دستک

ابھی تو امیدوں نے شیش محل میں رہنے کی سوچی تھیابھی سے کیوں دیتے ہیں در پر محرومی کے پتھر دستک

تن کا خالی برتن چھن سے بج اٹھا آزاد جب اس نےاس پر اک شب دے دی پہن کر اک خواہش کی جھانجھر دستک

— آزاد گلاٹی