7 اشعار

سرحد جسم سے باہر کہیں گھر لکھا تھا

Sarhad-e-jism se bahar kahin ghar likha tha

سرحد جسم سے باہر کہیں گھر لکھا تھا

«سرحد جسم سے باہر کہیں گھر لکھا تھا» آزاد گلاٹی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «آج ان آنکھوں میں دیکھا تو ملا دشت خلا آزاد گلاٹی» میں 19 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 49 سیکنڈ ہے۔

سرحد جسم سے باہر کہیں گھر لکھا تھاروح پر اپنی خلاؤں کا سفر لکھا تھا

ہم بھٹکتے رہے صدیوں جسے پڑھنے کے لئےاپنے اندر وہ کہیں حرف ہنر لکھا تھا

آج ان آنکھوں میں دیکھا تو ملا دشت خلاہم نے جن آنکھوں میں اک خواب نگر لکھا تھا

اپنے گھر میں اسی احساس نے جینے نہ دیااپنے ہاتھوں پہ کسی اور کا گھر لکھا تھا

زندگی ایک سلگتا ہوا صحرا تھا جہاںسب کی آنکھوں میں سرابوں کا بھنور لکھا تھا

کون تھا مجھ میں کہ جس نے مجھے پڑھنے نہ دیامیرے چہرے پہ مرا نام اگر لکھا تھا

اپنی ہی ذات کے ہالے میں رہے ہم آزادؔان گنت دائروں کا یعنی سفر لکھا تھا

— آزاد گلاٹی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں