5 اشعار

سرحد کون و مکاں سے لا مکاں لے جائے گا

Sarhad kaun o makaan se la-makaan le jayega

سرحد کون و مکاں سے لا مکاں لے جائے گا

«سرحد کون و مکاں سے لا مکاں لے جائے گا» آزاد گلاٹی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 44 سیکنڈ ہے۔

سرحد کون و مکاں سے لا مکاں لے جائے گاجب زمیں چھوڑے گی ہم کو آسماں لے جائے گا

رات سے قائم ہیں ان کے سائے کی خوش فہمیاںجب چڑھا سورج تو سارے سائباں لے جائے گا

ہم حصار ذات سے نکلے تو ہیں پر دیکھیےٹوٹ کر خود سے بکھرنا اب کہاں لے جائے گا

خامشی ہی خامشی کے کرب کا اظہار ہولفظ خاموشی سے لطف داستاں لے جائے گا

دل کی خوشبو سے ہے زندہ ان کے رنگوں کی دھنکوقت ساری خواہشوں کی تتلیاں لے جائے گا

— آزاد گلاٹی