7 اشعار

بدل گئی ہیں اگرچہ ضرورتیں اپنی

Badal gai hain agarche zaruratein apni

بدل گئی ہیں اگرچہ ضرورتیں اپنی

«بدل گئی ہیں اگرچہ ضرورتیں اپنی» آزاد گلاٹی کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «آج ان آنکھوں میں دیکھا تو ملا دشت خلا آزاد گلاٹی» میں 19 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 50 سیکنڈ ہے۔

بدل گئی ہیں اگرچہ ضرورتیں اپنیہمارے ساتھ ہیں اب تک روایتیں اپنی

ہمیں حیات کا ہر لمحہ تب بھی دوزخ تھاہمارے پاؤں تلے جب تھیں جنتیں اپنی

وہ پھول اب کھلے جن کی تلاش میں ہم لوگگنوا چکے ہیں کبھی کے بصارتیں اپنی

رہے ہیں اپنی ہی پہچان میں یوں سرگرداںکہ یاد آتی نہیں ہم کو صورتیں اپنی

بکے ہیں کوڑیوں کے بھاؤ تو گلہ کس سےہمیں کو خود نہ تھیں معلوم قیمتیں اپنی

خموشیوں کی صدائیں بلا رہی تھیں ہمیںنہ ساتھ دے سکیں لیکن سماعتیں اپنی

سبھی کو دعویٰ ہے آزادؔ جانتے ہیں ہمیںکھلیں نہ ہم پہ ہی لیکن حقیقتیں اپنی

— آزاد گلاٹی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں