5 اشعار

خلائے ذہن کے گنبد میں گونجتا ہوں میں

Khala-e-zehn ke gumbad mein goonjta hoon main

خلائے ذہن کے گنبد میں گونجتا ہوں میں

«خلائے ذہن کے گنبد میں گونجتا ہوں میں» آزاد گلاٹی کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «آج ان آنکھوں میں دیکھا تو ملا دشت خلا آزاد گلاٹی» میں 19 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 44 سیکنڈ ہے۔

خلائے ذہن کے گنبد میں گونجتا ہوں میںخود اپنے عہد گزشتہ کی اک صدا ہوں میں

سمیٹ لاتا ہوں موتی تمہاری یادوں کےجو خلوتوں کے سمندر میں ڈوبتا ہوں میں

تمہیں بھی مجھ میں نہ شاید وہ پہلی بات ملےخود اپنے واسطے اب کوئی دوسرا ہوں میں

جو دے سکو تو خنک سائے دو محبت کےخیال و خواب کی دنیا میں جل رہا ہوں میں

وہ خود مجھی میں کہیں کھو گیا نہ ہو آزادؔجسے خلائے زمانہ میں ڈھونڈتا ہوں میں

— آزاد گلاٹی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں