11 اشعار

جب کہ پہلو میں ہمارے بت خود کام نہ ہو

Jab ki pahlu mein hamare but-e-khud-kam na ho

جب کہ پہلو میں ہمارے بت خود کام نہ ہو

«جب کہ پہلو میں ہمارے بت خود کام نہ ہو» بہادرشاہ ظفر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 30 سیکنڈ ہے۔

جب کہ پہلو میں ہمارے بت خود کام نہ ہوگریے سے شام و سحر کیوں کہ ہمیں کام نہ ہو

لے گیا دل کا جو آرام ہمارے یا رباس دل آرام کو مطلق کبھی آرام نہ ہو

جس کو سمجھے لب پاں خوردہ وہ مالیدہ مسیمردماں دیکھیو پھولی وہ کہیں شام نہ ہو

آج تشریف گلستاں میں وہ مے کش لایاکف نرگس پہ دھرا کیونکہ بھلا جام نہ ہو

کر مجھے قتل وہاں اب کہ نہ ہو کوئی جہاںتا مری جاں تو کہیں خلق میں بدنام نہ ہو

دیکھ کر کھولیو تو کاکل پیچاں کی گرہکہ مرا طائر دل اس کے تہ دام نہ ہو

بن ترے اے بت خود کام یہ دل کو ہے خطرتیرے عاشق کا تمام آہ کہیں کام نہ ہو

آج ہر ایک جو یارو نظر آتا ہے نڈھالاپنی ابرو کی وہ کھینچے ہوئے صمصام نہ ہو

ہے مرے شوخ کی بالیدہ وہ کافر آنکھیںجس کے ہم چشم ذرا نرگس بادام نہ ہو

صبح ہوتی ہی نہیں اور نہیں کٹتی راترخ پہ کھولے وہ کہیں زلف سیاہ فام نہ ہو

اے ظفرؔ چرخ پہ خورشید جو یوں کانپے ہےجلوہ گر آج کہیں یار لب بام نہ ہو

— بہادرشاہ ظفر