6 اشعار

یاں خاک کا بستر ہے گلے میں کفنی ہے

Yaan khaak ka bistar hai gale mein kafni hai

یاں خاک کا بستر ہے گلے میں کفنی ہے

«یاں خاک کا بستر ہے گلے میں کفنی ہے» بہادرشاہ ظفر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ ہے۔

یاں خاک کا بستر ہے گلے میں کفنی ہےواں ہاتھ میں آئینہ ہے گل پیرہنی ہے

ہاتھوں سے ہمیں عشق کے دن رات نہیں چینفریاد و فغاں دن کو ہے شب نعرہ زنی ہے

ہشیار ہو غفلت سے تو غافل نہ ہو اے دلاپنی تو نظر میں یہ جگہ بے وطنی ہے

کچھ کہہ نہیں سکتا ہوں زباں سے کہ ذرا دیکھکیا جائے ہے جس جائے نہ کچھ دم زدنی ہے

مژگاں پہ مرے لخت جگر ہی نہیں یارواس تار سے وہ رشتہ عقیق یمنی ہے

لکھ اور غزل قافیے کو پھیر ظفرؔ تواب طبع کی دریا کی تری موج زنی ہے

— بہادرشاہ ظفر