9 اشعار

یا مجھے افسر شاہانہ بنایا ہوتا

Ya mujhe afsar-e-shaahāna banāyā hotā

یا مجھے افسر شاہانہ بنایا ہوتا

«یا مجھے افسر شاہانہ بنایا ہوتا» بہادرشاہ ظفر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 14 سیکنڈ ہے۔

یا مجھے افسر شاہانہ بنایا ہوتایا مرا تاج گدایانہ بنایا ہوتا

اپنا دیوانہ بنایا مجھے ہوتا تو نےکیوں خرد مند بنایا نہ بنایا ہوتا

خاکساری کے لیے گرچہ بنایا تھا مجھےکاش خاک در جانانہ بنایا ہوتا

نشۂ عشق کا گر ظرف دیا تھا مجھ کوعمر کا تنگ نہ پیمانہ بنایا ہوتا

دل صد چاک بنایا تو بلا سے لیکنزلف مشکیں کا ترے شانہ بنایا ہوتا

صوفیوں کے جو نہ تھا لائق صحبت تو مجھےقابل جلسۂ رندانہ بنایا ہوتا

تھا جلانا ہی اگر دورئ ساقی سے مجھےتو چراغ در مے خانہ بنایا ہوتا

شعلۂ حسن چمن میں نہ دکھایا اس نےورنہ بلبل کو بھی پروانہ بنایا ہوتا

روز معمورۂ دنیا میں خرابی ہے ظفرؔایسی بستی کو تو ویرانہ بنایا ہوتا

— بہادرشاہ ظفر