9 اشعار

زلف جو رخ پر ترے اے مہر طلعت کھل گئی

Zulf jo rukh par tere ae mehr-e-tal'at khul gaī

زلف جو رخ پر ترے اے مہر طلعت کھل گئی

«زلف جو رخ پر ترے اے مہر طلعت کھل گئی» بہادرشاہ ظفر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 19 سیکنڈ ہے۔

زلف جو رخ پر ترے اے مہر طلعت کھل گئیہم کو اپنی تیرہ روزی کی حقیقت کھل گئی

کیا تماشا ہے رگ لیلیٰ میں ڈوبا نیشترفصد مجنوں باعث جوش محبت کھل گئی

دل کا سودا اک نگہ پر ہے تری ٹھہرا ہوانرخ تو کیا پوچھتا ہے اب تو قیمت کھل گئی

آئینے کو ناز تھا کیا اپنے روئے صاف پرآنکھ ہی پر دیکھتے ہی تیری صورت کھل گئی

تھی اسیران قفس کو آرزو پرواز کیکھل گئی کھڑکی قفس کی کیا کہ قسمت کھل گئی

تیرے عارض پر ہوا آخر غبار خط نمودکھل گئی آئینہ رو دل کی کدورت کھل گئی

بے تکلف آئے تم کھولے ہوئے بند قبااب گرہ دل کی ہمارے فی الحقیقت کھل گئی

باندھی زاہد نے توکل پر کمر سو بار چستلیکن آخر باعث سستی ہمت کھل گئی

کھلتے کھلتے رک گئے وہ ان کو تو نے اے ظفرؔسچ کہو کس آنکھ سے دیکھا کہ چاہت کھل گئی

— بہادرشاہ ظفر