9 اشعار

واں رسائی نہیں تو پھر کیا ہے

Waan rasaai nahin to phir kya hai

واں رسائی نہیں تو پھر کیا ہے

«واں رسائی نہیں تو پھر کیا ہے» بہادرشاہ ظفر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ ہے۔

واں رسائی نہیں تو پھر کیا ہےیہ جدائی نہیں تو پھر کیا ہے

ہو ملاقات تو صفائی سےاور صفائی نہیں تو پھر کیا ہے

دل ربا کو ہے دل ربائی شرطدل ربائی نہیں تو پھر کیا ہے

گلہ ہوتا ہے آشنائی میںآشنائی نہیں تو پھر کیا ہے

اللہ اللہ رے ان بتوں کا غروریہ خدائی نہیں تو پھر کیا ہے

موت آئی تو ٹل نہیں سکتیاور آئی نہیں تو پھر کیا ہے

مگس قاب اغنیا ہونا ہےبے حیائی نہیں تو پھر کیا ہے

بوسۂ لب دل شکستہ کومومیائی نہیں تو پھر کیا ہے

نہیں رونے میں گر ظفرؔ تاثیرجگ ہنسائی نہیں تو پھر کیا ہے

— بہادرشاہ ظفر