7 اشعار

باتیں تو شنو ، ذوق خریدار تو دیکھو

Baatein to suno, zauq-e-khareedar to dekho

باتیں تو شنو ، ذوق خریدار تو دیکھو

«باتیں تو شنو ، ذوق خریدار تو دیکھو» باقی صدیقی کا کلام ہے، جسے شہزاد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو باقی صدیقی» میں 25 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔

باتیں تو شنو ، ذوق خریدار تو دیکھودر چار گھڑی رونق بازار تو دیکھو

تم دُھوپ سے گھبرا کے کہاں بیٹھ گئے ہوسایہ کہیں ڈھونڈو کوئی دیوار تو دیکھو

طوفان کا ہم پر تو اثر کچھ نہیں لیکنراہوں میں یہ ٹوٹے ہوئے انبار تو دیکھو

مقتل سے گزرنے لگی گی راہ ہوس بھیہر لب پر یہ ذکر رسن و دار تو دیکھو

توقیر نفس کی کوئی آواز نہیں کیاگردن سے یہ لیٹی ہوئی دستار تو دیکھو

ہر بات پر لے بیٹھتے ہیں اپنا فسانہدوست یہ ہمدرد یہ غم خوار تو دیکھو

یہ موج تبسم میں کسک درد کی باقییہ سلسلۂ رنگ گل رخسار تو دیکھو

— باقی صدیقی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں