باتیں تو شنو ، ذوق خریدار تو دیکھو
کلام: باقی صدیقی
باتیں تو شنو ، ذوق خریدار تو دیکھودر چار گھڑی رونق بازار تو دیکھو
تم دُھوپ سے گھبرا کے کہاں بیٹھ گئے ہوسایہ کہیں ڈھونڈو کوئی دیوار تو دیکھو
ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو باقی صدیقی
مہمان شاعر: باقی صدیقی
باتیں تو شنو ، ذوق خریدار تو دیکھودر چار گھڑی رونق بازار تو دیکھو
تم دُھوپ سے گھبرا کے کہاں بیٹھ گئے ہوسایہ کہیں ڈھونڈو کوئی دیوار تو دیکھو
تیرے افسانے سناتے ہیں مجھےلوگ اب بھولتے جاتے ہیں مجھے
قمقمے تھے بزمِ طرب کے جاگےرنگ کیا کیا نظر آتے ہیں مجھے