7 اشعار

تیرے افسانے سناتے ہیں مجھے

Tere afsane sunate hain mujhe

تیرے افسانے سناتے ہیں مجھے

«تیرے افسانے سناتے ہیں مجھے» باقی صدیقی کا کلام ہے، جسے شہزاد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو باقی صدیقی» میں 25 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 41 سیکنڈ ہے۔

تیرے افسانے سناتے ہیں مجھےلوگ اب بھولتے جاتے ہیں مجھے

قمقمے تھے بزمِ طرب کے جاگےرنگ کیا کیا نظر آتے ہیں مجھے

میں کسی بات کا پردہ ہوں کہ لوگتیری محفل سے اُٹھاتے ہیں مجھے

زخم آئینہ بنے جاتے ہیںحادثے سامنے لاتے ہیں مجھے

نیند بھی ایک ادا ہے تیریرات بھر خواب جگاتے ہیں مجھے

تیرے کوچے سے گزرنے والےکتنے اونچے نظر آتے ہیں مجھے

ان کے بگڑے ہوئے تیور باقیزیست کی یاد دلاتے ہیں مجھے

— باقی صدیقی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں