10 اشعار

گھیر کے بے کسی نے مارا

Gher ke be-kasi ne mara

گھیر کے بے کسی نے مارا

«گھیر کے بے کسی نے مارا» باقی صدیقی کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو باقی صدیقی» میں 25 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔

گھیر کے بے کسی نے ماراکوئی بھی نہ دے سکا سہارا

ساحل سے نہ کیجئے اشاراکچھ اور بھی دور اب خدا را

خاموش ہیں اس طرح وہ جیسےمیں نے کسی اور کو پکارا

احساس ملا ہے سب کو لیکنچمکا ہے کوئی کوئی ستارا

ہوتی ہے قدم قدم پہ لغزشملتا ہے کہیں کہیں سہارا

کھاتے گئے ہم فریب جتنےبڑھتا گیا حوصلہ ہمارا

کس طرح کٹے گی رات باقیؔدن تو کسی طور سے گزارا

اب کیا ہو کہ لب پہ آ گیا ہےہر چند یہ راز تھا تمہارا

اس طرح خموش ہیں وہ جیسےمیں نے کسی اور کو پکارا

حالات کی نذر ہو نہ جائےباقیؔ ہے جو ضبط غم کا یارا

— باقی صدیقی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں