8 اشعار

زندگی دل کا سکوں چاہتی ہے

Zindagi dil ka sukoon chahti hai

زندگی دل کا سکوں چاہتی ہے

«زندگی دل کا سکوں چاہتی ہے» باقی صدیقی کا کلام ہے، جسے ثنا سوئٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو باقی صدیقی» میں 25 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 59 سیکنڈ ہے۔ یہ کلام سحرِ بیاں کی محفلوں میں 2 مرتبہ پیش کیا جا چکا ہے۔

زندگی دل کا سکوں چاہتی ہےرونق شہر سبا کیا دیکھیں

کھوکھلے قہقہے پھیکی باتیںزیست کو زیست نما کیا دیکھیں

زخم آواز ہی آئینہ ہےصورت نغمہ سرا کیا دیکھیں

قہر دریا کا تقاضا معلومہم حبابوں کے سوا کیا دیکھیں

سانس کلیوں کا رکا جاتا ہےشوخی موج صبا کیا دیکھیں

دل ہے دیوار، نظر ہے پردہدیکھنے والے بھلا کیا دیکھیں

ایک عالم ہے غبار آلودہجانے والے کی ادا کیا دیکھیں

زندگی بھاگ رہی ہے باقیؔشوق کو آبلہ پا کیا دیکھیں

— باقی صدیقی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں