9 اشعار

کہنے کو ہوں ضرور غم دو جہاں سے دور

Kehne ko hoon zaroor gham do jahan se door

کہنے کو ہوں ضرور غم دو جہاں سے دور

«کہنے کو ہوں ضرور غم دو جہاں سے دور» بہزاد لکھنوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 4 سیکنڈ ہے۔

کہنے کو ہوں ضرور غم دو جہاں سے دورلیکن سکوں نہیں ہے ترے آستاں سے دور

تیرا جمال ہے مرے وہم و گماں سے دوراس ماہ نیم شب سے الگ کہکشاں سے دور

مجھ کو تو خود تباہیاں اپنی عزیز ہیںبجلی تڑپ رہی ہے یہ کیوں آشیاں سے دور

مجھ کو نہیں پسند یہ زود اختیاریاںاے رہنما بتا کہ ہے منزل کہاں سے دور

مجھ کو سمجھ سکے گی نہ یہ چشم کائناتہے میری فکر و فہم نگاہ جہاں سے دور

امکان میں نہیں ہیں تقرب کی لذتیںتصویر رکھ رہی ہے ترے آستاں سے دور

اب تک تری قسم ہے جبین نیاز کوملتا نہیں ہے لطف ترے آستاں سے دور

ان کے بھی ظلم سہتا ہوں اس کے بھی جور میںاک اور آسماں ہے مرے آسماں سے دور

کیا سرزمین غیر تمہیں راس آ گئیبہزادؔ کیوں پڑے ہو در مہرباں سے دور

— بہزاد لکھنوی