9 اشعار

تصور میں کوئی پھر آ رہا ہے

Tasawwur mein koi phir aa raha hai

تصور میں کوئی پھر آ رہا ہے

«تصور میں کوئی پھر آ رہا ہے» بہزاد لکھنوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔

تصور میں کوئی پھر آ رہا ہےالٰہی خیر دل گھبرا رہا ہے

وہ یوں دل کی فضا پر چھا رہے ہیںکہ دل مغرور ہوتا جا رہا ہے

سمجھ میں کچھ نہیں آتا ہے ناصحکہ تو بے کار کیوں سمجھا رہا ہے

محبت کرتی ہے اس کی پرستشکہ تو جس دل کو یوں ٹھکرا رہا ہے

تصور دے رہا ہے خوب دھوکہکہ کوئی آ رہا ہے جا رہا ہے

ارے ساقی مرا پیمانۂ دلشراب آرزو چھلکا رہا ہے

محبت دیکھ اے میری محبتمرے دل کو کوئی برما رہا ہے

کسی کے حسن کی اللہ رے گرمیمحبت کو پسینہ آ رہا ہے

ذرا خاموش ہو بہزادؔ مضطرترے اشعار کوئی گا رہا ہے

— بہزاد لکھنوی