9 اشعار

روح روان نغمہ تم نغموں کا سوز و ساز میں

Rooh-e-rawan naghma tum naghmon ka soz-o-saaz mein

روح روان نغمہ تم نغموں کا سوز و ساز میں

«روح روان نغمہ تم نغموں کا سوز و ساز میں» بہزاد لکھنوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 28 سیکنڈ ہے۔

روح روان نغمہ تم نغموں کا سوز و ساز میںجان خیال و خواب تم جان جہان ناز میں

حامل کیف و ناز تم حامل سوز و ساز میںایک جہان راز تم ایک جہان راز میں

مانا کہ تم ہو جان عشق میں بھی تو جان حسن ہوںتم ہو جو جان غزنوی روح تن ایاز میں

منزل حسن و عشق میں دونوں کا مرتبہ ہے ایکآپ ستم طراز ہیں اور ستم نواز میں

سنگ در جمال ہو یا کہ ہو نقش‌ پائے دوستسجدوں سے باز رہ سکوں رہ سکوں وہ بھی باز میں

شان کرم ہی خوب ہے شان طلب بھی خوب ہےجان گدا بنے ہیں آپ جان گدا نواز میں

میری نگاہ آرزو جلووں میں ایسی گم ہوئیکر نہ سکا کسی طرح جلووں کا امتیاز میں

دیکھیے میری شان ہے آپ کی شان ہے بلندآپ بنے ہیں رازدار اور بنا ہوں راز میں

تم سے جہان رنگ و بو مجھ سے جہان درد و غمحسن کرشمہ ساز تم عشق کرشمہ ساز میں

— بہزاد لکھنوی