6 اشعار

جب اس کی آنکھ نے ہر سمت روشنی کی تھی

Jab us ki aankh ne har simt roshni ki thi

جب اس کی آنکھ نے ہر سمت روشنی کی تھی

«جب اس کی آنکھ نے ہر سمت روشنی کی تھی» دانش نقوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 54 سیکنڈ ہے۔

جب اس کی آنکھ نے ہر سمت روشنی کی تھیتو پہلی بار چراغوں نے تیرگی کی تھی

میں چاہتا تھا میرا اختتام ہو تجھ پرسو تیرے ساتھ محبت بھی آخری کی تھی

یقین کر کہ وہ چہروں کے جیسا چہرہ نہ تھابنانے والے نے رنگوں سے شاعری کی تھی

ذرا خیال سے رہنا کہ پچھلی باری بھیہمارے اپنے ہی ساتھی نے مخبری کی تھی

بس اب تو اپنی کمر پر ہیں پہلے ہاتھوں میںکبھی کسی کی کمر تھی کبھی کسی کی تھی

یقین کر کہ مجھے کوئ بھی ملال نہ تھامیں رو رہا تھا مگر کیفیت ہنسی کی تھی

— دانش نقوی