7 اشعار

راہ میں پڑتی تھی دیوار نہیں دیکھ سکا

Raah mein padti thi deewar nahin dekh saka

راہ میں پڑتی تھی دیوار نہیں دیکھ سکا

«راہ میں پڑتی تھی دیوار نہیں دیکھ سکا» دانش نقوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔

راہ میں پڑتی تھی دیوار نہیں دیکھ سکامیں کہ اِس پار تھا اُس پار نہیں دیکھ سکا

دیکھتا تھا جسے روزانہ کی بنیاد پہ میںایک دو سال سے اک بار نہیں دیکھ سکا

یار تو کیسے کسی شخص کی جاں لیتا ہےمیں تو اک چڑیا کو بیمار نہیں دیکھ سکا

اس پہ کیا غم کہ چرائی ہیں نگاہیں اس نےمیں بھی تو اس کو لگاتار نہیں دیکھ سکا

تو اے دشمن مری حالت کو کہاں دیکھے گامیری جانب تو مرا یار نہیں دیکھ سکا

اس لیے عمر سے میں تجھ کو بڑا لگتا ہوںتو میرے ہجر کی رفتار نہیں دیکھ سکا

ایسی ترتیب سے رکھا تھا سجا کر دانشؔمال میں نقص خریدار نہیں دیکھ سکا

— دانش نقوی