6 اشعار

مصیبتیں سر برہنہ ہونگی عقیدتیں بے لباس ہونگی

Musibaten sar barahna hongi aqidaten be-libaas hongi

مصیبتیں سر برہنہ ہونگی عقیدتیں بے لباس ہونگی

«مصیبتیں سر برہنہ ہونگی عقیدتیں بے لباس ہونگی» دانش نقوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 50 سیکنڈ ہے۔

مصیبتیں سر برہنہ ہونگی عقیدتیں بے لباس ہونگیتھکے ہووں کو کہاں پتہ تھا کہ صبحیں یوں بد حواس ہونگی

تو دیکھ لینا ہمارے بچوں کے بال جلدی سفید ہونگےہماری چھوڑی ہوئی اداسی سے سات نسلیں اداس ہونگی

کہیں ملیں تم کو بھوری رنگت کی گہری آنکھیں، مجھے بتانامیں جانتا ہوں کہ ایسی آنکھیں بہت اذیت شناس ہونگی

میں سردیوں کی ٹھٹھرتی شاموں کے سرد لمحوں میں سوچتا ہوںوہ سرخ ہاتھوں کی گرم پوریں نجانے اب کس کو راس ہونگی

یہ جس کی بیٹی کے سر کی چادر کئ جگہ سے پھٹی ہوئ ہےتم اس کے گاوں میں جا کے دیکھو تو آدھی فصلیں کپاس ہونگی

~

— دانش نقوی