7 اشعار

کچھ بھی پوچھا نہیں جاتا نہ سنا جاتا ہے

Kuchh bhi poocha nahin jaata na suna jaata hai

کچھ بھی پوچھا نہیں جاتا نہ سنا جاتا ہے

«کچھ بھی پوچھا نہیں جاتا نہ سنا جاتا ہے» دانش نقوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

کچھ بھی پوچھا نہیں جاتا نہ سنا جاتا ہےمیرے جیسوں کو فقط دیکھ لیا جاتا ہے

میں کہ دن بھر کی مشقت سے کماتا ہوں سکوتشام ہوتے ہی کوئ شور مچا جاتا ہے

ہم ہیں دفتر میں کسی کام سے آئے ہوئے لوگ"بند ہے" کہہ کے جنہیں ٹال دیا جاتا ہے

یہ میرے واسطے لازم ہے کہ تو بات کرےتیرا چپ رہنا میری عمر گھٹا جاتا ہے

اس جگہ صاف نظر آتا ہے ڈھلتا سورجشام کے وقت یہاں زرد ہوا جاتا ہے

ایک بے جرم کی گردن سے لہو یوں نکلاجیسے شہہ رگ سے جدا ہو کے خدا جاتا ہے

جناب

— دانش نقوی