6 اشعار

تمہاری آنکھ ہے دریائی، کھینچ لیتی ہے

Tumhari aankh hai daryai, kheench leti hai

تمہاری آنکھ ہے دریائی، کھینچ لیتی ہے

«تمہاری آنکھ ہے دریائی، کھینچ لیتی ہے» دانش نقوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 42 سیکنڈ ہے۔

تمہاری آنکھ ہے دریائی، کھینچ لیتی ہےبہاو دے کے توانائی کھینچ لیتی ہے

بہت سے لوگ اچانک یونہی نہیں مرتےانہیں زمین میں تنہائی کھینچ لیتی ہے

کبھی کبھی تو تمہاری کشیدہ کار نظرلباس زیست کی ترپائی کھینچ لیتی ہے

تمہیں وہ روشنی سایہ نوازتی ہوگیمرے بدن سے تو پرچھائی کھینچ لیتی ہے

میں مطمئن نہ ہوا اس سے باہر آکر بھیمجھے پتہ تھا وہ گہرائی کھینچ لیتی ہے

ہمارے پاوں بھلا تو چکے ہیں رقص مگرکبھی کبھی کوئی شہنائی کھینچ لیتی ہے

— دانش نقوی