7 اشعار

چہرے سے کب عیاں ہے مرے اضطرار بھی

Chehre se kab ayan hai mere iztirab bhi

چہرے سے کب عیاں ہے مرے اضطرار بھی

«چہرے سے کب عیاں ہے مرے اضطرار بھی» ڈاکٹر فخر عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

چہرے سے کب عیاں ہے مرے اضطرار بھیلیکن میں کر رہا ہوں ترا انتظار بھی

شاید تجھے ہو دسترس اپنے وجود پرمجھ کو تو اس نظر پہ نہیں اختیار بھی

ملنے لگے ہیں اب تو خوشی کے لباس میںغم ہائے زندگی کا ہے کوئی شمار بھی

ہو لاکھ خوبرو کوئی اپنے تئیں مگرہوتا ہے عکس و آئنے پر انحصار بھی

یکجا ہوئی ہیں حسن کی سب اس میں خوبیاںچہرے پہ تازگی ہے نظر میں خمار بھی

لگتا ہے جان بوجھ کے ایسا کیا گیاتو نے بنائی چیز کوئی پائیدار بھی

محظوظ ہم بھی ہوں گے جو فرصت کہیں ملےگلشن بھی ہے گلاب بھی رنگ بہار بھی

— ڈاکٹر فخر عباس