6 اشعار

گھر سے تمہاری دی ہوئی چیزیں نکال دیں

Ghar se tumhari di hui cheezein nikaal dein

گھر سے تمہاری دی ہوئی چیزیں نکال دیں

«گھر سے تمہاری دی ہوئی چیزیں نکال دیں» ڈاکٹر فخر عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 38 سیکنڈ ہے۔

گھر سے تمہاری دی ہوئی چیزیں نکال دیںجیسے خود اپنے جسم سے سانسیں نکال دیں

دیکھا بس اک دفعہ اسے میں نے قریب سےپھر اہل شہر نے مری آنکھیں نکال دیں

حیرت ہے اس نے قید بھی خود ہی کیا مجھےپھر خود مرے فرار کی راہیں نکال دیں

کچھ اس نے بھی سہیلیوں کے منہ سے سن لیاکچھ میرے دوستوں نے بھی باتیں نکال دیں

اک پل میں ختم ہو گئی عمر طویل بھیجب زندگی سے ہجر کی راتیں نکال دیں

جانے وہ کس کے واسطے لکھی گئیں اے دوستمیں نے مسودے سے جو نظمیں نکال دیں

— ڈاکٹر فخر عباس