23 اشعار

رابعہ

Raabia

رابعہ

«رابعہ» فرحت عباس شاہ کا کلام ہے، جسے علی نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کتنے چُپ چاپ سے لگتے ہیں شجر شام کے بعد (فرحت عباس شاہ صاحب کے ساتھ)» میں 9 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 18 سیکنڈ ہے۔

رابعہ!او میری اجنبی رابعہ

مجھ کو کب علم تھااتنی صدیوں پرانی شناسائی یوں پل بھر میں نکل آۓ گی

اجنبیت کی دہلیز سےاور پھر اپنی معصوم دلدار آنکھوں سے جھانکے گی

عمروں کے ویران دل میںزمانوں کے زندان میں

رابعہ!رات میلے کے شوروشغب میں تیرے حسن کی خامشی

یوں اچانک میرے دل کے مندر کے محراب میں گنگنائیکہ جیسے عبادت کے لمحوں میں روٹھی ہوئی کوئی دیرینہ خواہش

دعاؤں کے گیتوں بھرے تار چھوتی ہوئی جل اٹھےرابعہ!

میں تو مبہوت تھااور گھبرا کے میں نے کوئی بے تکی بات کرنے کی کوشش بھی کی تھی

مگرمیری اپنی اداسی نے مجھ کو سہارا دیا

رابعہ!میرے ساتھی میری بے قراری پہ حیران تھے

اور منصور تو مستقل ہی بضد تھاکہ فرحت چلو اس سے ملتے ہیں

اور پو چھتے ہیں کہ کس آسماں سے زمیں پہ اتاری گئی ہوتمہیں علم ہے؟

کہ یہ لڑکا تجھے دیکھتے ہی جو ٹھٹھکا ہے ٹھنڈی ہوا کی طرحکون ہے؟ یہ کوئی عام لڑکا نہیں ہے

محبت کا بھگوان ہےاور اداسی کا سلطان ہے

اور غموں کے جہانوں کا ایمان ہےرابعہ!

واقعہ چند گھڑیوں کا ہو گا مگرآنسوؤں کے مہ و سال ایسی ہی گھڑیوں سے

ایسے ہی لمحوں سے پیدا ہوئے ہیں محبت کی تاریخآج کی رات

میلے کے شوروشغب سے نکل کر محبت کی تاریخ پر پھیلتی جا رہی ہےیہ بے کار محدود صدیاں مجھے یوں تکے جارہی ہیں

کہ جیسے مرے آنسوؤں کے ازل اور ابدسے پریشان ہوںمیری افسردگی اور جدائی کے پھیلاؤ میں

چند لمحوں کی مہمان ہوںرابعہ!

او میری اجنبی رابعہکیا تمہیں رات میلے میں اترا ہوا ایک گم سم ستارہ

کبھی یاد آئے گا دل کے کسی موڑ پریا سمندر کے سینے پہ برسی ہوئی بارشوں کی طرح

کوئی نام ونشاں ہی نہ باقی رہے گا

— فرحت عباس شاہ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں