موت کا وقت گزر جائے گا
کلام: فرحت عباس شاہ
موت کا وقت گزر جائے گایہ بھی سیلاب اتر جائے گا
آ گیا ہے جو کسی سکھ کا خیالمجھ کو چھوئے گا تو مر جائے گا
کتنے چُپ چاپ سے لگتے ہیں شجر شام کے بعد (فرحت عباس شاہ صاحب کے ساتھ)
مہمان شاعر: فرحت عباس شاہ
موت کا وقت گزر جائے گایہ بھی سیلاب اتر جائے گا
آ گیا ہے جو کسی سکھ کا خیالمجھ کو چھوئے گا تو مر جائے گا