آ ،کسی شام ، کسی یاد کی دہلیز پہ آ
کلام: فرحت عباس شاہ
آ ،کسی شام ، کسی یاد کی دہلیز پہ آعمر گزری ہے تجھے دیکھے ہوئے
یاد ہے ، ہم تجھے دل مانتے تھےاپنے سینے میں مچلتا ہوا ضدّی بچّہ
کتنے چُپ چاپ سے لگتے ہیں شجر شام کے بعد (فرحت عباس شاہ صاحب کے ساتھ)
مہمان شاعر: فرحت عباس شاہ
آ ،کسی شام ، کسی یاد کی دہلیز پہ آعمر گزری ہے تجھے دیکھے ہوئے
یاد ہے ، ہم تجھے دل مانتے تھےاپنے سینے میں مچلتا ہوا ضدّی بچّہ
ہنسیں اور ایک بار خود کو ایک دھوکہ اور دیں
کہیں کہ شکر ہے کہ خوف رولنے کی رُت گئیوہ خوف جو بدن میں پھیل پھیل کر لہو اُچھالتا رہا
سائیاں میرے اچھے سائیاںسائیاں ذات ادھوری ہے
سائیاں بات ادھوری ہےسائیاں رات ادھوری ہے