7 اشعار

عجیب رت ہے یہ ہجر و وصال سے آگے

Ajeeb rut hai yeh hijr o visaal se aage

عجیب رت ہے یہ ہجر و وصال سے آگےکمال ہونے لگا ہے کمال سے آگے

وہ ایک لمحہ جو تتلی سا اپنے بیچ میں ہےاسے میں لے کے چلی ماہ و سال سے آگے

کوئی جواز ہو ہمدم اب اس رفاقت کاتلاش کر مجھے میرے جمال سے آگے

جواب خواب بھلا خواب کے سوا کیا ہےمگر وہ نکلا نہیں ہے سوال سے آگے

پگھل رہا ہے مرا دن سیاہ راتوں میںکہانی گھوم رہی ہے زوال سے آگے

رکے ہوئے ہیں کنارے پہ وہ تلاطم ہےیہ شہر عشق ہے اور ہے مجال سے آگے

مشام جاں میں کوئی دیپ سا جلائے ہوئےنکل چلی ہوں میں رنج و ملال سے آگے

— فرحت زاہد