7 اشعار

خشک آنگن میں تھی نمی لڑکی

Khushk aangan mein thi nami larki

خشک آنگن میں تھی نمی لڑکیعمر بھر سوچتی رہی لڑکی

اس کی سیرت پہ کوئی بھی نہ گیاصورتاً سانولی سی تھی لڑکی

اس کے اندر کا مرد جاگ اٹھاجب بھی تنہائی میں ملی لڑکی

کچے رستوں سے آشنا کب تھیبارشوں میں دھلی ہوئی لڑکی

وہ تو منزل کو پا چکا ہوگاراستوں میں بکھر گئی لڑکی

وہ جو سب کو فریب دیتا تھااس کو پھر مل گئی نئی لڑکی

دیکھ لینا یہ وقت بدلے گاخود کو منوائے گی یہی لڑکی

— فرحت زاہد