5 اشعار

عورت ہوں مگر صورت کہسار کھڑی ہوں

Aurat hoon magar surat kohsar khari hoon

عورت ہوں مگر صورت کہسار کھڑی ہوںاک سچ کے تحفظ کے لیے سب سے لڑی ہوں

وہ مجھ سے ستاروں کا پتا پوچھ رہا ہےپتھر کی طرح جس کی انگوٹھی میں جڑی ہوں

الفاظ نہ آواز نہ ہم راز نہ دم سازیہ کیسے دوراہے پہ میں خاموش کھڑی ہوں

اس دشت بلا میں نہ سمجھ خود کو اکیلامیں چوب کی صورت ترے خیمے میں گڑی ہوں

پھولوں پہ برستی ہوں کبھی صورت شبنمبدلی ہوئی رت میں کبھی ساون کی جھڑی ہوں

— فرحت زاہد