5 اشعار

یاد آتے ہی رہے دل سے نکالے ہوئے لوگ

Yaad aate hi rahe dil se nikale hue log

یاد آتے ہی رہے دل سے نکالے ہوئے لوگکس کی میراث تھے اور کس کے حوالے ہوئے لوگ

شہر آشوب میں آنسو کی طرح پھرتے ہیںہائے وہ لوگ کسی خواب کے پالے ہوئے لوگ

اول اول تو ہماری ہی طرح لگتے تھےمنصب عشق پہ آئے تو نرالے ہوئے لوگ

جانے کس سمت انہیں تلخیٔ دوراں لے جائےاپنی پہچان کو نیزوں پہ اچھالے ہوئے لوگ

ایک رت آئی کہ خوشبو کی طرح پھیل گئےاور پھر وقت کی موجوں کے حوالے ہوئے لوگ

— فرحت زاہد