6 اشعار

کھڑکی کھول کے دیکھو موسم اچھا ہے

Khirki khol ke dekho mausam achha hai

کھڑکی کھول کے دیکھو موسم اچھا ہےچڑیو پر پھیلاؤ موسم اچھا ہے

اپنی دھرتی جیسا کوئی اور نہیںلوٹ کے واپس آؤ موسم اچھا ہے

سچائی کے رنگ ہوا میں پھیل گئےچنری کو لہراؤ موسم اچھا ہے

ختم نہ ہونے دینا اپنا جوش و جنوںعشق کو ساتھ ملاؤ موسم اچھا ہے

وعدے چوم رہے ہیں اپنی چوکھٹ کوجھومو ناچو گاؤ موسم اچھا ہے

کیسے کیسے دکھ جھیلے تھے رستے میںزخموں کو سہلاؤ موسم اچھا ہے

— فرحت زاہد