5 اشعار

خوشبو کی طرح ملتا ہے وعدہ نہیں کرتا

Khushboo ki tarah milta hai wada nahin karta

خوشبو کی طرح ملتا ہے وعدہ نہیں کرتاموسم کا پرندہ ہے ٹھکانا نہیں کرتا

وہ عشق میں شعلوں کا طلب گار ہے لیکناس آگ میں مر جانے کا سودا نہیں کرتا

وہ پچھلی محبت میں مرے دل کا خسارہاسباب دروں وہ کبھی پوچھا نہیں کرتا

کرتا ہے ہر اک رنگ کی چڑیوں سے وہ باتیںپہنائی میں دل کی کبھی اترا نہیں کرتا

اس شہر میں جینے کی ادا سیکھ رہی ہوںبیتے ہوئے کل پر یہ گزارا نہیں کرتا

— فرحت زاہد