6 اشعار

خون میں ڈوبی ردائیں نہیں دیکھی جاتیں

Khoon mein doobi ridaein nahin dekhi jaatein

خون میں ڈوبی ردائیں نہیں دیکھی جاتیںبین کرتی ہوئی مائیں نہیں دیکھی جاتیں

ختم ہوتے ہوئے آنسو ہوں کہ تھمتا ہوا دردہم سے اب اور سزائیں نہیں دیکھی جاتیں

جانے والوں کا بھلا کیسے تمہیں دیں پرساخالی ہاتھوں کی دعائیں نہیں دیکھی جاتیں

مرنے والوں کی صدائیں تو میں سن سکتی ہوںجینے والوں کی کراہیں نہیں دیکھی جاتیں

پھول توڑے ہیں بجھائے ہیں مرے گھر کے چراغدشمنا تیری خطائیں نہیں دیکھی جاتیں

اب تو آنکھوں میں دھواں بھرنے لگا ہے فرحتؔایسی رنجور فضائیں نہیں دیکھی جاتیں

— فرحت زاہد