8 اشعار

’’اٹلانٹک سٹی‘‘

''Atlantic City''

زمین نور و نغمہ پرخدائے رنگ کے بکھرے ہوئے جلووں کو پہچانیں

اسے سمجھیں۔ اسے جانیںیقیں آ جائے تو مانیں

یہاں تو کہکشاں مٹھی میں ہےلعل و جواہر پیرہن پر ہیں شعاعوں کے کئی دھبے ہر اک اجلے بدن پر ہیں

یہاں رنگیں مشینیں دائروں میں جھک کے ملتی ہیںکسی سے روٹھ جاتے ہیں کسی کے ساتھ چلتے ہیں

یہاں کے سامری گویائی لے لیتے ہیںاور پلکوں پہ حیرت کے دریچے کھول دیتے ہیں

یہاں ہر نفع کے خانے میں پوشیدہ خسارہ ہےفسوں کم ہو تو پھر باہر کا ہر منظر ہمارا ہے

جسے ہم چاند سمجھے ہیں بھٹکتا سا ستارہ ہےیہی سورج سے جیتا ہے یہی جگنو سے ہارا ہے

یہ فطرت کا اشارہ ہےچلو تنویر شاہ! اٹھو

— غلام محمد قاصر