6 اشعار

سمیتا پاٹل

Smita Patil

دل کے مندر میں خوشبو ہے لوبان کی، گھنٹیاں بج اٹھیں، دیو داسی تھی وہکتنے سرکش اندھیروں میں جلتی رہی دیکھنے میں تو مشعل ذرا سی تھی وہ

نور و نغمہ کی رم جھم پھواروں تلے مسکراتی ہوئی اک اداسی تھی وہپانیوں کی فراوانیوں میں رواں اس کی حیرانیاں کتنی پیاسی تھی وہ

حسن انساں سے فطرت کی سرگوشیاں گھل گئیں تیرے لہجے کی جھنکار میںفن کی تکمیل سچا سراپا ترا، بے زبانی کو لایا جو اظہار میں

مدتوں تک نمائش کی خواہش رہی زندگی تب ڈھلی تیرے کردار میںجو تھی زندہ محبت کی بنیاد پر وقت نے چن دیا اس کو دیوار میں

دھوپ ہر روپ میں، ریت ہر کھیت میں، فصل جذبات پر خشک سالی رہےدو گھڑی دل کسی کے خیالوں میں گم اور پھر عمر بھر بے خیالی رہے

آئنہ اب ترستا رہے عکس کو اور نظر روشنی کی سوالی رہےمیرے حصے کا یہ آنکھ بھر آسماں جگمگاتے ستارے سے خالی رہے

— غلام محمد قاصر