12 اشعار

کہف القحط

Kehf ul Qaht

پیربخش بلڈنگ سے پیربخش کے مرقد تکاپنی ہی بخشش کی دعاؤں کے کرب زار سے گزر کر آنے والی

سر پر گزشتہ ماہ و سال کے کتنے ہی تھال اٹھائےآج بھی ایک قبر گم گشتہ کا نشاں اور اپنے معدوم کل کے لیے خطۂ اماں

ایک ساتھ ڈھونڈ رہی ہےاس کے ننگے تلووں سے چھونے والی تپش کی لہر لہر اسے اپنے

کھلونوں سے محروم بچپن کے ساتھ ساتھ وہ بہاریں بھی یاد دلا جاتی ہےجب کسی ان دیکھے جھونکے سے مہک اٹھنے کی خواہش میں اس کے سپنے

پس دیوار مرجھا گئے اور اس کے بال چنبیلی کے پھول بنتے گئےاور پھر اس کی کلائیوں میں پہنی ہوئی جھریوں میں طلائی چوڑیوں

کے عکس جھلملانے لگےابھی ابھی ایک بے ترتیب ساہوکار اپنے بکھرے ہوئے نوٹوں

کو ترتیب دینے کا جاں گسل فریضہ سرانجام دیتے دیتے تھک گیامائی مریم نے پہلے تو نوٹوں میں مقید ضرورتوں سے ملاقات

کی ایک اور کوشش کیاور پھر ایک نظر آسمان پر ڈالی جیسے وہاں بھی کوئی رہتا ہو

اس کی آنکھوں سے نکلنے کے لیے بے تاب حسرتوں میں سےکچھ تو ان گولیوں کو بھی بھگو گئیں

جنہیں اپنے لرزتے ہاتھوں میں لیتے ہی اسے یقین ہو چلا تھاکہ آج رات اسے کوئی درد نہیں ستائے گا

اور صبح کو کھانسی کا دورہ بھی نہیں پڑے گامگر کہاں۔۔۔

بیماریاں بھی آج کل اپنے مزاج میں بہت بے نیاز ہو گئی ہیں

— غلام محمد قاصر