12 اشعار

اونچے درجے کا سیلاب

Oonche Darje Ka Sailab

زمیں کا حسن سبزہ ہےمگر اب سبز پتے زرد ہو کر جھڑتے جاتے ہیں

بہاریں دیر سے آتی ہیںجگنو ہے نہ تتلی ۔۔۔خوشبوؤں سے رنگ روٹھے ہیں

جہاں جنگل ہوا کرتے تھے اور بارش دھنک لے کر اترتی تھیجہاں برسات میں کوئل، پپیہے چہچہاتے تھے

وہاں اب خاک اڑتی ہےدرختوں کی کمی سے آ گئی ہے دھوپ میں شدت

فضا کا مہرباں ہالہ پگھلتا جا رہا ہےآسماں تانبے میں ڈھلتا جا رہا ہے

اس لیے بے مہر موسم اب ستاتے ہیںدھوئیں کے، گرد کے، آلودگی کے، شور کے موسم

گلی، کوچوں، گھروں میں کارخانوں میں بس ابسڑک پر شور بہتا ہے

سنائی ہی نہیں دیتا ہمارا دل جو کہتا ہےمحبت کا پرندہ آج کل خاموش رہتا ہے

پرندے پیاس میں ڈوبے ہیں اور پانی نہیں پیتےکہ دریاؤں کی شریانوں میں اب شفاف پانی کی جگہ آلودگی کا زہر ہے

ہمیں جب بحر و بر کی حکمرانی دی گئی ہے تو یہ ہم کو سوچنا ہوگازمینوں، پانیوں، ماحول کی بیماریوں کا کوئی مداوا ہے

کہیں ان کا سبب ہم تو نہیں بنتے؟سبب کوئی بھی ہو آخر مداوا کچھ تو کرنا ہے

یہ تصویر جہاں ہے رنگ اس میں ہم کو بھرنا ہے

— غلام محمد قاصر