22 اشعار

ایک ذاتی نظم

Ek Zaati Nazm

میں اکثر دیکھنے جاتا تھا اس کو جس کی ماں مرتیاور اپنے دل میں کہتا تھا یہ کیسا شخص؟ ہے اب بھی

جیے جاتا ہے آخر کون اس کے گھر میں ہے جس کےلیے یہ سختیاں سہتا ہے تکلیفیں اٹھاتا ہے

تھکن دن کی سمیٹے شب کو گھر جانے پہ کون اس کےلیے دہلیز پر بیٹھا۔۔۔ دعا کی مشعلیں دل میں

جلائے۔۔۔ دیدۂ بے خواب کی ہر راہ دروازےکی درزوں سے نکالے گا۔۔۔ خدا کی مہربانی اک

حقیقت ہی سہی کچھ قہر آلودہ بھی ہے۔۔۔ جو اسکی نافرمانیاں کرتے ہیں ان کے واسطے اس نے

دہکتی آگ بھی تیار رکھی ہے۔۔۔ دل کافرمیں اس کی مہربانی اور رحمت کا تصور بھی

جب آیا مامتا کے لفظ کی صورت میں آیا ہےمری ویران آنکھوں نے پھر ایسا وقت بھی دیکھا

کہ سورج جل رہا تھا روشنی منظر سے غائب تھیخدا زندہ تھا لیکن اس کی رحمت سر سے غائب تھی

انہی آنکھوں میں میرے خیریت سے لوٹ آنے پرنہ تھا اشک مسرت بھی۔۔۔ کہ میری راہ تکنا جن

کی بینائی کا مصرف تھا۔۔۔ وہ لب دو چار دن پہلےمرے ماتھے پہ ہو کر ثبت جو کہتے تھے'' تم جاؤ

تمہاری نوکری کی بات ہے بیٹے! میں اچھی ہوںمجھے اب جان کا خطرہ نہیں ہے اور اگر کچھ ہو

گیا تو ہم تمہیں فوراً بلا لیں گے چلے جاؤ''(اگر مر جاؤں میں تو صبر کر لینا۔۔۔ خدا حافظ)

مگر یہ بات قاصرؔ ان لبوں سے کب سنی میں نےاسے معلوم تھا شاید کہ مائیں مر نہیں سکتیں

دل اولاد میں اک یاد بن کر زندہ رہتی ہیںبلایا تو گیا مجھ کو مگر وہ لب؟ کہاں وہ لب؟

مرے فاقہ زدہ بچپن کو نیندوں سے گریزاں، پاکے جو پریوں کے افسانے سناتے تھے تو میں خوابوں

میں خود کو ان کے دسترخوانوں پر موجود پاتا تھاسکت باقی نہیں ہے ان لبوں میں آج اتنی بھی

کہ میری خاطر اک حرف دعا کا بوجھ اٹھا لیتےمجھے جو دیکھنے آتے ہیں کہتے ہیں میں زندہ ہوں

میں کھاتا ہوں کہ یہ بھی زندگی کی اک ضرورت ہےمگر ہر ذائقے میں ایک تلخی کا اضافہ ہے

کسی دیوار کا سایہ ہو یا ہو پیڑ کی چھاؤںمرا جسم برہنہ چھیدتی رہتی ہیں کرنیں اب

ہوا وہ ہاتھ غائب جو کہ میری ذات پر ہوتےہوئے ہر وار کو بڑھ بڑھ کے خود پر روک لیتا تھا

دعا کو ہاتھ اٹھاتا ہوں دعائیں اس کی خاطر ہیںمیں گویا ہوں کہ میری سب صدائیں اس کی خاطر ہیں

محبت اس کی خاطر ہے وفائیں اس کی خاطر ہیںکہ میری ابتدائیں، انتہائیں اس کی خاطر ہیں

— غلام محمد قاصر