9 اشعار

دعا اور بد دعا کے درمیاں

Dua aur Bad Dua ke Darmiyan

دعا اور بد دعا کے درمیاں جب رابطے کا پل نہیں ٹوٹاتو میں کس طرح پہنچا بددعائیں دینے والوں میں

میں ان کی ہمنوائی پر ہوا مامورہم آواز ہوں ان کا

کہ جن کے نامۂ اعمال میں ان بد دعاؤں کے سوا کچھ بھی نہیںان کے کہے پر آج تک بادل نہیں برسے

کبھی موسم نہیں بدلےکوئی طوفاں، کوئی سیلاب ان کی آرزوؤں سے نہیں پلٹا

یہ ناداں، سارے مقتولوں کی فہرستیں اٹھائے آسماں کو دیکھتے ہیںاور سمجھتے ہیں کہ دنیا ان کے نام اور شکل و صورت بھول جائے گی

وگرنہ قاتلوں کو خودکشی کرنا پڑے گیاور یہ اتنے بہادر بھی نہیں ہوتے

تو جب تک آسمانوں اور ہمارے درمیاں حائلہجوم قاتلاں چھٹتا نہیں ہٹتا نہیں پردہ

دعا اور بد دعا کے لفظ ہم معنی رہیں گےاب دعائے زندگی قاتل کو دیں

یا بد دعا خود کو

— غلام محمد قاصر