8 اشعار

شوق کا تقاضہ ہے شرح آرزو کیجے

Shauq ka taqaza hai sharh-e-arzoo kijiye

شوق کا تقاضہ ہے شرح آرزو کیجےدل سے عہد خاموشی کیسے گفتگو کیجے

دل ہو یا گریباں ہو روز چاک ہوتے ہیںکیا جنوں کے موسم میں کوشش رفو کیجے

عاشقی و خودداری بندگی و خود بینیآرزو کی راہوں میں خون آرزو کیجے

داد سعئ پیہم کی کچھ تو دیجئے یعنیتازہ تر شکستوں سے دل کو سرخ رو کیجے

پائے شوق میں کب تک راستوں کی زنجیریںصورت صبا چلیے سیر چار سو کیجے

ہے خلوص کا مسلک دشمن اثر آخرجو نہ ہو مقدر میں اس کی جستجو کیجے

بزم‌‌ جام و مینا میں داد تشنگی دیجےموسم بہاراں میں حسرت نمو کیجے

کیا عجب کہ بر آئے دل کی آرزو تاباںؔسیر کوئے قاتل کی آپ بھی کبھو کیجے

— غلام ربانی تاباں