5 اشعار

تجھ کو دیکھا ہے جو دریا نے ادھر آتے ہوئے

Tujh ko dekha hai jo darya ne idhar aate hue

تجھ کو دیکھا ہے جو دریا نے ادھر آتے ہوئے

«تجھ کو دیکھا ہے جو دریا نے ادھر آتے ہوئے» گلزار کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 42 سیکنڈ ہے۔

تجھ کو دیکھا ہے جو دریا نے ادھر آتے ہوئےکچھ بھنور ڈوب گئے پانی میں چکراتے ہوئے

ہم نے تو رات کو دانتوں سے پکڑ کر رکھاچھینا جھپٹی میں افق کھلتا گیا جاتے ہوئے

میں نہ ہوں گا تو خزاں کیسے کٹے گی تیریشوخ پتے نے کہا شاخ سے مرجھاتے ہوئے

حسرتیں اپنی بلکتیں نہ یتیموں کی طرحہم کو آواز ہی دے لیتے ذرا جاتے ہوئے

سی لیے ہونٹ وہ پاکیزہ نگاہیں سن کرمیلی ہو جاتی ہے آواز بھی دہراتے ہوئے

— گلزار